Loading...
پنج شنبه 27 مهر 1396 - الخميس 28 محرم 1439
error_text
دفتر حضرت آية اللہ العظمي صانعي کي ويب سائٹ :: انعکاس
پہلا صفحہ  انعکاس > فونٹ سائز
۱  ۲  ۳ 
دوبارہ اپلوڈ   
دفتر حضرت آية اللہ العظمي صانعي کي ويب سائٹ :: ایک دوست نے کہا کہ میں آیت اللہ صانعی کے گھر جانا چاہتا ہوں. میں نے کہا کوئی خاص وجہ؟ اس نے جواب دیا کیوںکہ آپ جو طلباء میدان جنگ میں حاضر ہوئے تھے ان کو وظیفہ دیتے ہیں.
جنگ کے ایام میں سے ایک خاص واقعہ آپ کی زباںی ایک دوست نے کہا کہ میں آیت اللہ صانعی کے گھر جانا چاہتا ہوں. میں نے کہا کوئی خاص وجہ؟ اس نے جواب دیا کیوںکہ آپ جو طلباء میدان جنگ میں حاضر ہوئے تھے ان کو وظیفہ دیتے ہیں.
ایک عالم و فاضل شخص جو کہ خود ایک شہید کا بھائی اور دفاع مقدس کا جانباز ہے کہتے ہیں کہ جنگ کے ابتدائی سالوں میں، میں مدرسہ فیضیہ میں اذان ظہر کے ایک گھنٹہ پہلے نماز پڑھتا تھا. بزرگ علماء میں سے جو آجکل اپنے آپ کو بہت ولایت اور انقلاب کا حامی کہلاتا ہے مجھ سے کہنے لگا کہ آپ بہت نماز پڑھتے ہو اور یہ کونسی نماز ہے؟ میں نے کہا کہ اپنی مالی مشکلات کو دور کرنے کے لئے مجبور ہوں کہ استجاری نماز پڑھوں، کیوں کہ میرا اور میرے کچھ دوستوں کا وظیفہ جنگ میں شرکت کرنے کی وجہ سے روک دیا گیا ہے اور ہمارے کمرے بھی ہم سے لے لئے ہیں، انہوں نے کہا: بہتر ہے کہ تم اپنی قضا نمازوں کو بجا لاؤ. میں نے کہا جہاں تک مجھے یاد ہے بلوغ سے لے کر آج تک میری کوئی نماز قضا نہیں ہے، انہوں نے کہا: کیوں قضا نہیں ہے؟ یہی جو جنگ میں شرکت کی ہے یہ ایک سفر معصیت ہے، کیونکہ آپ طالب علم بنے ہیں تا کہ صرف درس پڑھیں اور اہل بیت(علیھم السلام)ٰ کو علوم کو حاصل کریں اور جنگ میں شرکت کرنا اصلی مقصد کے خلاف اور معصیت ہے. میں نے کہا: حضرت امام خمینی نے فرمایا: ''جس شخص کے لئے کوئی شرعی عذر نہ ہو اس کا جنگ میں شرکت کرنا واجب ہے''. انہوں نے کہا: تمہارا خمینی سے کہا ہے؟! یہ دیکھو کہ باقی کیا کہتے ہیں. روایت ''خذ بما اشتھر بین اصحابک''، اسی مورد کے لئے ہے، ایک شخص اتنے اشخاص کے مقابلے میں؟!.... یہ ایک ملاقات تھی.
ایک اور ملاقات جنگ کے آخری سالوں میں تھی، ایک دوست نے کہا کہ میں آیت اللہ صانعی کے گھر جا رہا ہوں میں نے پوچھا کیوں؟ کہا کہ آپ جو طلباء جنگ کے لئے گئے تھے انکو وظیفہ دیتے ہیں.
اب یہ دیکھیں کہ جو شخص آج اسلامی نظام کا مدعی بنا ہوا ہے، اس دن، وہ جنگ پر جانے کو حرام کہتا تھا، اور آیت اللہ صانعی جو کہ جنگ میں جانے والے، ایثار گر اور عزیز جانبازوں کے لئے خاص احترام قائل تھے اور آیت اللہ العظمی صانعی کی یہ اسلوب جنگ کے کئی سال بعد – جب تک آپ کا وظیفہ عام نہیں ہوا تھا- طلباء اور روحانیوں جنہوں نے جنگ میں شرکت کی تھی ان کے لئے جاری رہی.
تاريخ: 2017/09/25
ويزيٹس: 35